<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" version="2.0">
<channel>
<title>Department of Islamic Studies (BUIC)</title>
<link>http://hdl.handle.net/123456789/16895</link>
<description/>
<pubDate>Sat, 04 Apr 2026 11:07:25 GMT</pubDate>
<dc:date>2026-04-04T11:07:25Z</dc:date>
<item>
<title>حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور کی معاشی ترقی اور پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کا تقابلی مطالعہ</title>
<link>http://hdl.handle.net/123456789/19593</link>
<description>حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور کی معاشی ترقی اور پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کا تقابلی مطالعہ
Abdul Basit, 01-259221-001
عمر بن عبدالعزیز رحمہ لله جنہیں عمر ثانی بھی کہا جاتا ہے، آڻھویں اموی خلیفہ تھے۔ ان کے دور کو اکثر منصفانہ حکمرانی اور معاشی اصلاحات کا دور سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسی پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد بدعنوانی سے نمڻن ا، شہریوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا اور سماجی انصاف کو فروغ دینا تھا۔ عمر ثانی کی حکمرانی انصاف، احتساب اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصولوں پر مرکوز تھی۔حکمرانی اور معاشی پالیسیوں کا ارتقا ءتاریخ میں علمی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ عمر بن عبدالعزیزؒ، جسے عرف عام میں عمر دوم کے نام سے جانا جاتا ہے، اموی خلافت کے دوران اپنی منصفانہ اور م ؤثر حکمرانی کے لیے مشہور ہیں۔ آج کے پیچیده معاشی چیلنجز کے تناظر میں، عمر بن عبدالعزیز رحمہ لله کی حکومت کا تجزیہ پالیسی سازوں اور اسکالرز کے لیے یکساں قیمتی اسباق اور بصیرت پیش کر سکتا ہے۔ترقی کی جستجو پوری تاریخ میں معاشروں کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ لله نے قابل ذکر اصلاحات نافذ کیں جنہوں نے اسلامی تہذیب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔موجوده معاشی صورت حال اس صورتحال سے بہت مختلف ہے جو حضرت عمرؒکے دور میں تھی۔ دنیا کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات شامل ہیں۔ دہشت گردی اور تنازعات کا بڑھتا ہوا خطره بھی ہے۔اس مشکل ماحول مینتحریک کے لیے ماضی کی طرف دیکھنا ضروری ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ لله کی اصلاحات ایک ماڈل پیش کرتی ہیں کہ کس طرح ایک زیاده منصفانہ اور مساوی معاشره تشکیل دیا جائے۔موجوده دور میں پاکستان کو کثیر جہتی چیلنجز کا سامنا ہے جو اس کی ترقی کی راه میں رکاوٹ ہیں۔ اس تحقیقی منصوبے کا مقصد ان دو عہدوں کے درمیان مماثلتوں اور تضادات کو کھینچنا ہےاوران عوامل پر روشنی ڈالنا ہےجنہوں نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور حکومت کی ترقی میں کردار ادا کیا اور پاکستان میں عصری ترقیاتی منظرنامے کا جائزه لیا جائے۔
Supervised by Dr. Sanaullah
</description>
<pubDate>Wed, 01 Jan 2025 00:00:00 GMT</pubDate>
<guid isPermaLink="false">http://hdl.handle.net/123456789/19593</guid>
<dc:date>2025-01-01T00:00:00Z</dc:date>
</item>
<item>
<title>منتخب دینی مدارس کا نصابِ تعلیم اور معاشرے پر ان کے اثرات (تجزیاتی مطالعہ)</title>
<link>http://hdl.handle.net/123456789/19592</link>
<description>منتخب دینی مدارس کا نصابِ تعلیم اور معاشرے پر ان کے اثرات (تجزیاتی مطالعہ)
Muhammad Zakirullah, 01-259231-008
حضور ی اک نے ابتدائے اسلام سے ہی دینی تعلیم کی اش ۔ حضور ی اک نے انے مکی دورمیں حضرت ارقم بن أ ب ارقم کے گھر کو دینی تعلیم و ر بنای ا )دار ارقم( تدریس کا مرک جبکہ مدنی دورے زندگی میں مسجد نبوی میں )ااب ب ہ( ( دینی تعلیم و تدریس کا رمای ا ے اتمامم ق ۔ ا تھا ان دونوں مقامات کو مدارس کی حیثیت حاصل تھی ہاںں دینی تعلیم وتدریس کا کام سرانجام دی ا جای ۔حضور ی اک دین اسلام کے لیے مختلف علاقو اع کی تبلیغ اور دینی تعلیم کی اش ں میں اب ہ  کرام کوھیجا  کرے  ھے۔ روغ اور دینی تعلیم کے ق نبی ی اک سے لے کر آج ت دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ جاری ے ۔ پوری دنیائے اسلام میں مختلف اسلامی مکتب فکر نے دینی مدارس قائم کر رھے  ہیں۔ ہاںں پر بچوں کو دینی تعلیم دی جاتی ے۔ ان مدارس میں دینی تعلیم کے اتھ  اتھ  ثرای )و انیاد( تعلیم د کی ضرورت ے۔ کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا ضروری ے جیسا کہ پہلے دور میں منطق تھی جسکی جگہ اب ب میں وق &#1065813; نے لی ے۔ ت کا دور ے اور مغربی تہذی چونکہ اب مادی کا لبہ  ےاس ئے ے والے طلبہ معاشرےکی بہتری میں کردار ا کون ن اکہ مدارس سے کرنے کی ضرورت ے ی ب مری دا کرسکے اور عصر &#1065813; ان تقاضوں کے مطابق حاضر کے مسائل کا اتمنا کرکے اسکا حل تلاش کرسکے۔ امل کرنے کی اس کےئے کچھ شعبوں کو ش ضرورت ے جیسا کہ دد ید یاسی  لسفہ ،معاشیات،لینگویج،اتئیکالوجی اور سوشیالوجی ۔مدارس سے فارغ التحصیل علماءکا لسانی ، استدنیلی اور فکری ہاررت کو عصر حاضر کے تقاضوں سے م آہنگ کرنے کی ضرورت ے۔ بی ب ک کا معاشرے کی &#1065813; ب میں موجود ربط وانفصال ، &#1065813; ب، &#1065813; ز ثرنظرتحقیقی موضوع میں اسلام آیا د کے منتخب دینی مدارس کے جائے گا &#1063304; ب میں اصلاحات کی گنجا ر ہ &#1065813; بہتری میں کرداراور ئش کا تحقیقی جاث ۔ اس تحقیقی موضوع میں اسلام ا یا د کے مدارس: جامعہ اسلام ا ر یدیہ یا داور جامعہ ق ، اسلام ا امل ہیں یا دش ۔
Supervised by Dr. Rahim Ullah
</description>
<pubDate>Wed, 01 Jan 2025 00:00:00 GMT</pubDate>
<guid isPermaLink="false">http://hdl.handle.net/123456789/19592</guid>
<dc:date>2025-01-01T00:00:00Z</dc:date>
</item>
<item>
<title>ای-کامرس کے منتخب ماڈلز کا جائزہ (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں)</title>
<link>http://hdl.handle.net/123456789/19590</link>
<description>ای-کامرس کے منتخب ماڈلز کا جائزہ (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں)
Muhammad Mehmood, 01-259221-009
انسان کی بنیادی ضروریات میں سے پہلی ضرورت روز گار اور کمائی کی تلاش ہے۔ دور حاضر میں جہاں انٹر نیٹ کی وجہ سے روابط میں آسانی ہو گئی ہے اور اس کی وجہ سے کمانے کے ہزاروں مواقع انسان کو میسر آگئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے آن لائن کاروبار میں .رو ز .برو ز اضافہ ۔ہو رہا ۔ہے۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ آن لائن کاروبار نے مختلف کاروباری میدانوں میں نی دور متعارف کرایا ہے اور ایک نئی دنی کا تعارف کروایا ہے جس کو ور چول ورلڈ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں افراد کو روز گار کمانے کا بہترین فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ ا یک آسان طریقہ ہے جس کے ذریعے لوگ گھر بیٹھ اپنے آ پکو مالی طور پر مستحکم کرسکتے ہیں۔ کاروبار کے اس طریق نے بائع اور مشتری کے درمیان فاصلوں کو کم کردیا ہے۔ آن لائن کاروبار کی دنی میں ای- کامرس کی و یب سائٹس، سوشل می یا ، آن لائن مارکیٹنگ، ڈ یجیٹل خدمات وغیرہ شامل ہیں۔ "ای کامرس )الیکٹرونک کامرس( اس کے معانی ڈیجیٹل طور پر خرید و فروخت کرنا، یعنیآن لائن اشیا کی خرید و فروخت کرنا ہے" 1 ۔ جہاں آج کل دور جدید میں زندگی کے ہر کام کو انٹر نیٹ کے ذریعے مکمل کرنے کی سعی کی جا رہی ہے وہیں تجارت کرنے والے افراد بھی اپنا تمام کاروبار آن لائن کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس دور جدید میں انسان اپنی ضروریات زندگی کو بذریعہ انٹر نیٹ گھر بیٹھ حاصل کر لیتا ہے۔ لہذا آن لائن اسٹور بنائے گئے ہیں یعنی آن لائن بازار جہاں سے ضروریات زندگی کی ہر چیز گھر بیٹھ حاصل کی جا سکتی ہے جس میں س دو رحاضر میں ایک بہت مشہور و معذوف اصطلاح ڈراپ شپنگ استعمال کی جاتی ہے ۔ ڈراپ شپنگ سے مراد ایسا کاروبار ہے جس میں جس میں بیچن والا سٹاک کو ہاتھ میں رکھے بغی کسٹمر کے آرڈر کو قبول کرتا ہے۔ اور سپلائی چین مینجمنٹ کی ایک شکل ہے ، بیچن والا آرڈر اور ان کی کھیپ کی تفصیلات یا تو مینوفیکچ ر، تھوک فروش، دوسرے
Supervised by Dr. Sanaullah
</description>
<pubDate>Wed, 01 Jan 2025 00:00:00 GMT</pubDate>
<guid isPermaLink="false">http://hdl.handle.net/123456789/19590</guid>
<dc:date>2025-01-01T00:00:00Z</dc:date>
</item>
<item>
<title>اُولُو العَزم انبیاء کے دعوتی اسلوب ’’تسهیلُ البیان‘‘ کی روشنی میں (تجزیاتی مطالعہ)</title>
<link>http://hdl.handle.net/123456789/19591</link>
<description>اُولُو العَزم انبیاء کے دعوتی اسلوب ’’تسهیلُ البیان‘‘ کی روشنی میں (تجزیاتی مطالعہ)
Nagina Bibi, 01-259231-009
Islam is a religion of invitation,founded on tha principles of guidance and the reformation of humanity.The primary purpose of every prophet’s mission was to call people towards the oneness of Allah, prevent them from associating partners with him, and promote moral and spiritual rectification. Among the Prophets, the Ulul-Azm hold a unique status due to their extraordinary patience, determination, and wisdom in conveying the message. The Quran elaborates on their dawah efforts, making their principles and methodologies a guiding light for future preachers of truth. Taseel Al-Bayan fi Tafseer Al-Quran is a significant exegesis that presents the meanings of the Quran in a simple and comprehensible manner. This tafsir serves as a valueable resourse for understanding the dawah principles and methodologies of the Prophets. This research analyzes the dawah approach of the Ulul-Azm Prophets in light of Taseel Al-Bayan, aiming to explore principles and strategies that remain effective even in contemporary times.The first chapter of this study discusses the concept of dawah, its importance, and necessity. It also reviews the Quranic terminology associated with dawah and introduces the author of the tafsir. The second chapter focuses on the distinctive qualities of the Ulul-Azm Prophets, their principles of dawah, and the attributes of an effective preacher. The third chapter provides an analytical study of the dawah methodologies of these Prophets, as interpreted in Taseel Al-Bayan This research seeks to make the prophetic methodologies of dawah applicable in the context of modern challenges, offering guidance in the field of Islamic propagation. Its significance lies in providing insights not only for students of Islamic studies but also for contemporary preachers striving to address the complexities of today’s world.
Supervised by Dr. Rahim Ullah
</description>
<pubDate>Wed, 01 Jan 2025 00:00:00 GMT</pubDate>
<guid isPermaLink="false">http://hdl.handle.net/123456789/19591</guid>
<dc:date>2025-01-01T00:00:00Z</dc:date>
</item>
</channel>
</rss>
